الف لام میم۔ (1) اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ جاوید ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ (2) اسی نے نازل کی ہے تم پر کتاب، حق کے ساتھ، یہ تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو اس کے آگے ہے، اور اسی نے نازل کی ہے تورات اور انجیل۔ (3) اس سے پہلے، لوگوں کی ہدایت کے لئے، اور اسی نے نازل کیا ہے فرقان، بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، ان کیلئے سخت عذاب ہے، اور اللہ سب پر غالب ہے، انتقام لینے والا ہے۔ (4) بے شک اللہ وہ ہے جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، زمین میں اور نہ آسمان میں۔ (5) وہی ہے جو تمہاری صورت بناتا ہے، ماں کے پیٹ میں، جس طرح چاہتا ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر بس وہی۔ وہ سب پر غالب ہے، حکمت والا ہے۔ (6) وہی ہے جس نے نازل کی ہے تم پر کتاب، اس میں کچھ آیتیں محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں، اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں، تو جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ اس میں سے ان آیات کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں، تاکہ فتنہ اٹھائیں اور ان کی تاویل معلوم کریں، حالانکہ ان کی تاویل کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔ اور وہ لوگ جو علم میں پختگی رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (7) اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردینا، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بے حد عطا فرمانے والا ہے۔ (
سورہ : آل عمران .... رکوع: 01 .... آیت: 01- 09 .... پارہ: 3
سورہ آل عمران کا آغاز حروف مقطعات کے ساتھ خدائے حیّ و قیوم کی وحدانیت کے اعلان سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ واضح کیا گیا ہے کہ قرآن بھی اسی خدا کی کتاب ہے جس نے اس سے پہلے انسانوں کی ہدایت کیلئے تورات اور انجیل نازل کی تھی۔ اب خدا کی یہ آخری کتاب قرآن ہی فرقان ہے کہ ان تینوں کتابوں میں کہیں کوئی اختلاف نظر آئے تو فیصلہ کن بات قرآن ہی کی ہوگی۔ اگر کوئی اس کتاب کی آیتوں کو نہیں مانے گا تو اس کو غلبہ والے، انتقام والے اور حکمت والے خدا کی جانب سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ جس خدا نے تمہاری ماں کے پیٹ میں تمہاری صورت بنائی اور تمہاری تخلیق کی ہے اس سے دنیا کی کوئی بھی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔
یہاں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو قرآن مجید سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کون لوگ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہتے ہیں۔ تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں بڑی تعداد ان آیتوں کی ہے جن کی حیثیت آیات محکمات کی ہے یعنی ایسی آیتیں جن کا مقصد و مطلب پوری طرح واضح اور صاف ہے۔ یہی امّ الکتاب ہیں یعنی انہی پر مومنوں کے عقائد و اعمال کی بنیاد ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی آیتیں بھی ہیں جن کی حیثیت آیات متشابہات کی ہے۔ یہ وہ آیتیں ہیں جن کا تعلق اللہ کی صفات اور آخرت کی تفصیلات وغیرہ سے ہے۔ ان کو مثالوں اور تشبیہوں سے سمجھایا گیا ہے۔ یہ وہ نادیدہ باتیں ہیں جن کی تفصیل انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کی تاویل و تفصیل صرف اللہ جانتا ہے۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ فتنہ اور تاویل کی تلاش میں ان آیتوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی ایسی راہوں پہ ڈال دیتے ہیں جہاں شیطان ان کو اندھیری وادیوں میں دوڑاتا پھرتا ہے۔ اس کے برعکس علم و عقل رکھنے والے لوگ ان باتوں کی تفصیل میں جانے کے بجائے اتنی بات کو جاننا اور ماننا کافی سمجھتے ہیں جتنا اللہ نے ان کو بتایا ہے۔
یہاں اخیر میں وہ دعا سکھائی گئی ہے جو انسان کو ہدایت کے راستے پر جمے رہنے کی توفیق بخشتی ہے، اس کو خدائے وہّاب کی رحمتوں کا حقدار بناتی ہے اور اس کو قیامت کے روز ایک کامیاب انسان کی شکل میں کھڑے ہونے کا موقع عطا کرتی ہے۔ ٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(14جون 2024 )
Jibreel School | Islamic School in Kolkata | Muslim School in Kolkata | Muslim English Medium School in Kolkata | Islamic and Modern Education in Kolkata | Best Islamic School in Kolkata | Best Muslim School in Kolkata | Units of Jibreel International Islamic School | Muslim Private School in Kolkata | First Islamic School in Kolkata

No comments:
Post a Comment