بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے ان کو کتنی کھلی ہوئی نشانیاں
دیں،اور جو کوئی اللہ کی نعمت کو بدل ڈالے، اس کے بعد کہ وہ اس کے پاس
آچکی ہو تو یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (211) خوش نما بنادی گئی ہے
دنیا کی زندگی ان کیلئے جنہوں نے کفر کیا ہے ، اور وہ ان لوگوں کا مذاق
اڑاتے ہیں جو ایمان لائے ہیں، حالانکہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا وہ قیامت
کے دن ان سے بلند ہوں گے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
(212) لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبیوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے
والے کے طور پر بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی حق کے ساتھ، تاکہ
لوگوں کے درمیان ان معاملات میں فیصلہ کردے جن میں انہوں نے اختلاف کیا ہے۔
اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی، اس کے بعد
کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں آچکی تھیں، آپس کی ضد کی وجہ سے۔ پھر اللہ
نے اپنے حکم سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے حق کے معاملے میں ہدایت دی جس
میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اور اللہ جس کو چاہتاہے سیدھے راستے کی طرف
ہدایت دیتا ہے۔ (213) کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ
گے، حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں آئے ہیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے
تھے؟ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ اس طرح ہلا ڈالے گئے کہ رسول اور
ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟' سن لو!
بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ (214) وہ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ
کریں؟ کہہ دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین اور رشتے داروں اور
یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے، اور خیر کا جو بھی کام تم کرتے
ہو یقیناً اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے۔ (215) تم پر قتال فرض کیا گیا ہے
حالانکہ وہ تمہارے لئے ناپسندیدہ ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو
ناپسند کرو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو
پسند کرو اور وہ تمہارے لئے بری ہو۔ اور اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں
جانتے۔ (216)
سورہ : بقرہ .... رکوع: 26 .... آیت: 211- 216 .... پارہ: 2
یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے مگر اس کا حسن منکرین خدا کو ایسا مسحور
کرتا ہے کہ پھر وہ اس کے جال سے کبھی آزاد نہیں ہوپاتے ہیں۔ اللہ مہربان ہے
اور وہ لگاتار انسانوں پر مہربانیوں کی بارش برساتا رہتا ہے مگر جو لوگ
خدا کے احسانات کا بدلہ نافرمانی و ناشکری سے دیتے ہیں تو پھر ان کی گرفت
بہت سخت ہوتی ہے، بنی اسرائیل کے واقعات میں اس کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا
ہے۔
دنیا کی یہ زندگی بس ایک امتحان ہے۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔
دنیا میں انسان جس قدر خدا کی فرمانبرداری کرے گا اسی قدر اس کی آخرت کی
زندگی بہتر ہوگی۔ جو لوگ اللہ کو نہیں مانتے اور پیغمبرانہ تعلیمات سے رشتہ
نہیں رکھتے وہ اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے ہیں۔ آدم کی اولادیں ابتدا میں
ایک ہی امت تھیں، دھیرے دھیرے اختلافات اور تفریقات پیدا ہوتی چلی گئیں۔
بار بار نبی آتے رہے اور لوگوں کو سمجھاتے رہے مگر انسانوں کا ایک بڑا طبقہ
باہمی عداوت اور حسد و رقابت کی وجہ سے ہدایت سے محروم رہا۔
یہ دنیا
ابتلا و آزمائش سے بھری ہوئی ہے اور اس کا سامنا مختلف صورتوں میں سب کو
کرنا پڑتا ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ نبیوں کے ساتھ رہنے والے نیک انسانوں
کو بھی اللہ نے آزمایا ہے کہ جنت جیسی عظیم نعمت کے حقدار صرف فرمانبردار و
پرہیزگار لوگ ہی ہوسکتے ہیں۔ بعض دفعہ اللہ کے نیک بندوں کو شدید ترین
آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا ہے مگر سچ بات یہ ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ قریب
رہتی ہے اور وہ مناسب وقت پر اپنے بندوں کی مدد کرتا اور ان کو راحت نصیب
فرماتا ہے۔
یہاں اس رکوع میں انفاق اور قتال کے تعلق سے بھی ہدایات دی
گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ بعض دفعہ تم کو کوئی چیز اچھی لگتی ہے مگر وہ
تمہارے لئے بری ہوتی ہے اور کبھی کوئی چیز بہت بری محسوس ہوتی ہے مگر اسی
میں خیر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ہر چیز کی حقیقت صرف اللہ جانتا ہے، تم نہیں
جانتے۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(16فروری 2024 )
Friday, February 23, 2024
اللہ کی مدد قریب ہے نورِ قرآن 27
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
TANZEEL 2025 – DASTARBANDI CEREMONY
With gratitude to the Almighty, Jibreel International School proudly presents TANZEEL 2025, a momentous occasion celebrating the Dastarbandi...
-
اے لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو۔ بے شک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (168) و...
-
نیکی صرف یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف کر لوبلکہ نیکی اس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر،آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پ...
-
JIBREEL INTERNATIONAL SCHOOL is an English Medium School. Besides the general national level syllabus and curriculum consisting of General ...

No comments:
Post a Comment