کلکتہ، (احمد علی قاسمی): جبریل انٹرنیشنل اسکول، کلکتہ میں ’مسابقۃ التعارف بالعربیہ‘ کے عنوان سے عربی تعارفی مقابلہ کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ وطالبات کی عربی زبان میں مہارت کو فروغ دینا تھا۔ اس مقابلے میں نرسری سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور عربی زبان میں خود کو متعارف کرانے کی شاندار صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔یہ مقابلے اسکول کے بائی پاس یونٹ، پارک سرکس یونٹ، سنٹرل ایونیو یونٹ اور مٹیا برج یونٹ میں منعقد ہوئے۔
اس خصوصی تقریب میں شہرکے مختلف علمی اداروں سے 13 ممتاز علماء اور عربی زبان کے ماہرین بطور منصفین شریک ہوئے، جنہوں نے طلبہ کی کاوشوں کو سراہا اور اسکول کی جانب سے عربی زبان کے فروغ کی اس شاندار پہل کو قابل تحسین قرار دیا۔یہ ایونٹ ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا، جہاں کم عمر طلبہ نے فصیح عربی میں تعارف پیش کیا، جو کہ نہ صرف ایک حسین زبان ہے بلکہ قرآن کی زبان ہونے کے ناطے دینی اور علمی لحاظ سے بھی بے حد اہمیت رکھتی ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی، چیف ایڈمنسٹریٹر، جبریل انٹرنیشنل اسکول، نے عربی زبان و ادب کی علمی و عملی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عربی دنیا کی عظیم ترین، بے مثل اور حسین زبان ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغام، قرآن مجید، کے لیے منتخب فرمایا اور اسے تا قیامت محفوظ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان نہ صرف دینی علوم کی گہرائیوں تک رسائی کا ذریعہ ہے بلکہ عصری علوم، بین الاقوامی تعلقات، اور علمی تحقیق کے میدان میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا، عربی زبان کا سیکھنا اور اس میں مہارت حاصل کرنا ایک علمی، روحانی اور عملی ضرورت ہے، جو فرد کی فکری وسعت اور کامیابی کے دروازے کھولتی ہے۔
آخر میں، پرنسپل عبدالباسط اسماعیل نے تمام معزز جج صاحبان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جبریل انٹرنیشنل اسکول اپنے طلبہ میں لسانی مہارت اور ثقافتی آگہی کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک علمی و دینی ورثہ ہے، جسے سیکھنا طلبہ و طالبات کے لیے نہایت مفید اور ضروری ہے۔ اسکول مستقبل میں بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ ایسے تعلیمی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گا، تاکہ طلبہ کو اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کے مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

No comments:
Post a Comment